شیموگہ :16/اکتوبر(ایس او نیوز) 19ویں صدی کی انتظامیہ ، 20ویں صدی کے اساتذہ اور 21 ویں صدی کے طلبا کے ساتھ جب تعلیمی ادارے چل رہے ہوں تو بھلا بتائیے کہ ہم کیسے تعلیمی میدان میں ترقی کرسکتےہیں ، کیسے زمانے کے تقاضوں کے ساتھ اسلامی اقدار کو ہم آہنگ کریں گے۔ آج پوری دنیا بدل گئی ہے ، ہر چیزبدلی ہے اور بدل رہی ہے، لیکن ہم نہیں بدلے ، بدلنے کا مقصد چند جدید وسائل کو اختیار کرنا نہیں ہے بلکہ از سرنو اپنے پورے تعلیمی نظام کا تجزیہ کرنا اور زمانے کے ساتھ ہم آہنگ کرنا وقت کی اہم ضرورت ہے ۔ ان خیالات کا اظہار محترم سید تنویر احمد ، سکریٹری تعلیمات، جماعت اسلامی ہند کرناٹکا نے کیا۔
وہ یہاں گُڈول ہال میں بورڈ آف ایجوکیشن کرناٹکا اور آل انڈیا آئیڈیل ٹیچرس اسوسی ایشن (آئیٹا) کی جانب سے مشترکہ طورپر ’’تخلیقی تدریس‘‘عنوان پر منعقدہ ایک روزہ ورکشاپ میں مختلف عنوانات کے تحت علاقہ کے اساتذہ کی رہنمائی کررہے تھے۔ صبح کے سیشن میں موصوف تنویر صاحب نے ’اساتذہ میں تعلیمی وزن ‘‘ پر گفتگوکرتے ہوئے کہاکہ دنیا کے کئی ممالک میں اساتذہ سب سے زیادہ عزت دار شخصیت مانے جاتے ہیں، کیونکہ ایک استاد اپنی زندگی میں کم سے کم 10ہزار طلبا کی شخصیت کی تعمیر کرتاہے۔ اساتذہ دو طرح کے وزن پر کام کرنا ہے ایک قلیل المدت اور دوسرا طویل المدت یعنی شارٹ ٹرم میں دنیا وی کامیابی مقصود ہے تو لانگ ٹرم ہماری منزل اصل میں آخرت کی کامیابی ہونی چاہئے ، انہی خطوط پر کام کرنا ہے۔ جو استاد بچوں کو ان خطوط پرمکمل رہنمائی کرتاہے تو وہی استاد حقیقت میں کامیاب ہونے کی بات کہی۔
’تعلیم میں نئے رجحانات ‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے سید تنویر نے بتایا کہ نونہالوں کو صرف کلاس یا اسکول کا غلام بنا کر نہ رکھیں بلکہ انہیں ملک و ملت کے لیڈر، قائد بنائیں اور ملک وملت کی قسمت بدلیں ۔ اس کے برعکس آج ہم صرف پن ڈرائیو بنار ہے ہیں ، استاد اپنی معلومات طلبا میں منتقل کرتاہے، طلبا اس کو یاد رکھتے ہیں اور امتحانات میں اس کو دوبارہ منتقل کردیتے ہیں۔ اساتذہ صرف جانکاری منتقل کرنے والی مشین نہ بنیں بلکہ عام طلبا کو بہتر شخصیت میں منتقل کرناہے ۔ اسی کو مربی کہتے ہیں۔ اساتذہ اپ ڈیٹ رہیں، طلبا کو نمبرات کی بنیاد پر نہ جانچیں ۔ اسی طرح ’نصاب کے ساتھ اخلاقی تعلیم کو جوڑنے کا خاکہ ‘ پر مشقی وعملی کام کی طرف رہنمائی کرتے ہوئے بتایا کہ استاد Ethicsکو مارلیٹی میں منتقل کرنے والا بنے۔ یعنی طلبا کو صرف معلومات نہ دیں بلکہ ان کی سیرت وکردار بنائیں۔ تخلیقی ذہن اپناتے ہوئے تعلیم کے ہرشعبہ میں طلبا کی رہنمائی کرنے اپیل کی۔
اسی طرح اسلامیہ عربک کالج منصورہ ہاسن کے پرنسپال منورپاشاہ صاحب نے ’اقدار پر مبنی تعلیم کی ضرورت ‘ اور ’اساتذہ کو سماج کے لئے مفید بنانے کے ضمن میں تجاویز ‘‘ نامی عنوانات پر اظہارخیال کرتے ہوئے تعلیم تدریس، تدریب ، تعدیب اور تربیت کا نام ہے، والدین ، مدرسہ، اسکول ، استاد اور معاشرہ بچےکو بنانے کے سانچے ہیں، بچے ان سب کابڑی خاموشی کے ساتھ مشاہدہ کرتے رہتے ہٰیں تو خود ہمیں بااخلاق ہونا ہے تب کہیں جا کر ہم تعلیمی سطح پر اقدار کی بات کرسکتے ہیں۔ اسی طرح اساتذہ اور انتظامیہ صرف Bellاور بِل کی حد تک نہ رہیں ، صرف حساب کتاب میں مگن نہ ہوں بلکہ طلبا کی ہمہ جہت ترقی کے متعلق غور وفکر کرتے ہوئے ملت کے سرمایہ میں اضافہ کرنے بات کہی۔ پروگرام میں سید تنویر احمد کی رہنمائی میں شریک اساتذہ کو مختلف گروپ میں تقسیم کرتے ہوئے انہیں تخلیقی غورو فکر کے متعلق عملی مشق کرائی گئی جس میں تمام اساتذہ نے بڑی سرگرمی اور انہماک سے حصہ لیتے ہوئے اس انوکھے طریقے کو اپنانے کی بات کہی۔
بورڈ آف اسلامک ایجوکیشن کرناٹکا کے سکریٹری جناب ریاض احمد رون نے بورڈ کا اتعارف پیش کرتے ہوئے کہاکہ 2002میں عصری طلبا کی دینی رہنمائی ، نصاب کی نگرانی ، جائزہ اور حکومتوں کو اس تعلق سے باورکرانے اور دیگر طلبا میں اسلام کا تعارف پیش کرنے کے مقاصد لے کر بورڈ کا قیام عمل میں لایا گیا ۔ الحمدللہ اب تک 80ہزار سے زائد طلبا داخلہ لے چکے ہیں اسی طرح ہر سال 200سے زائد ہندوو دیگر مذہب کے طلبا اس میں داخلہ لیتے ہوئے بورڈ کے مختلف کورس میں تعلیم حاصل کرتے ہیں۔ اس کے علاوہ بورڈ مختلف موقعوں پر اساتذہ، طلبا اور انتظامیہ کے لئے سمینار ، ورکشاپ کا بھی انعقاد کرتارہتاہے۔
اختتامی کلمات پیش کرتے ہوئے سکریٹری تعلیمات نے اساتذہ سے کہاکہ وہ مادہ پرستی سے آزاد ہوں، آخرت کی فکریں ، قناعت پسند بنیں، دنیا میں 90فی صد اساتذہ صرف ہدایات دیتے رہتےہیں ، صرف10فی صد اساتذہ مربی ہونے کا حق ادا کرتے ہیں تو ہمارے تمام اساتذہ کو مربی بن کر طلبا کی رہنمائی کرنا چاہئے۔ خود اساتذہ اپنی صلاحیتوں کو پروان چڑھائیں۔ مادہ پرست نہ بنیں، ایک دوسرے سیکھنےکا جذبہ پیدا کرنے کی بات کہی۔ انہوں نے بتایا کہ ہرایک کلاس روم ایک ریسرچ سنٹر ہے اور ہر ایک استاد سائنس دان ہے، جدید ٹکنالوجی کا بہتر انداز میں استعمال کرتے ہوئے ملی اداروں اور بچوں کو تعلیم دینے کی اپیل کی۔
ورکشاپ کا آغاز مولانا عبدالحفیظ ندوی بھٹکلی کی تلاوت قرآن سے ہوا۔ ہدایت اللہ بیگ منصوری نے نظامت کے فرائض انجام دئیے۔ جماعت اسلامی ہند شیموگہ کے ناظم علاقہ مولانا محمد سلیم عمری نے استقبالیہ و افتتاحی کلمات پیش کئے ۔ ورکشاپ کے روح ِ رواں اور مقامی امیر مولانا عامر حسین عمری نے شکریہ اداکیا۔ ورکشاپ میں ڈاونگیرہ ، شیموگہ ، اترکنڑا اضلاع کے 100سے زائد مرد وخواتین اساتذہ شریک ہوکر استفادہ کیا۔